پری مر نہیں سکتی ۔۔۔

37580899_10216791971542300_3262816732703621120_n

کبھی سنا ہے؟

چاند پر چرخہ کاٹتی بڑھیا

مر گیی ہے

!ہاں

 وقت نام کا خرانٹ بوڑھا

اسے کہیں اٹھا لے گیا ہے

بڑے بچوں کا چاند

سونا کر گیا ہے

کہیں پڑھا ہے ؟

انقلاب نوجوانوں کے دلوں کے

کواڑ ہلا ہلا کر

واپس لوٹ گیا ہو

!ہاں

 ضرورت نا م کا  اژدھا

اسے زندہ نگل گیا ہے

روشن ذہنوں کو

سونا کر گیا ہے

کبھی دیکھا ہے ؟

موسم کی پہلی بارش میں

  جنگلوں میں ناچنے والے مور

لاغر ہو کر

اپنے بد صورت پیروں پر

کھڑے نا ہو پا رہے ہوں

!ہاں

شہروں کا ٹدی دل

پرانے درختوں کی فصل کاٹ کر

کتنی حسرتوں کے مدفنوں پر

پکی قبریں بنا کر

 نئی صلیبیں گاڑگیا ہے

کس نے چاہا تھا؟

درخت کے نیچے کتاب پڑھتی ایلس

کسی ماورائی دنیا سے

ہمیشہ نا بلد رہے

 

کوئی جولیٹ، کوئی ہیر

تھپک کر بچے سلاتے ہویے

ان کو کسی مہربان شہزادے کی کہانی

بنا کر سنا نا چاہے بھی تو

سنا نا پائے ۔۔۔

اب تو یوں ہے کہ

ممتا کی نگہبان پری

بارہ بجے تک کا جادو لے کر

 سب ماٰوں کی قبروں پہ

روتی لڑکیوں کو

دیوانہ وار کھوجتی ہے

آس کا کچا گھڑا

کسی مفلس کے سونے آنگن میں

اپنی اکھڑی سانسوں میں

کسی ضدی مٹیار کا رستہ

بے چینی سے تکتا

بجھتی بھٹی کے سامنے

دم توڑ دیتا ہے

پری مری نہیں ہے

بس چند ادھورے خوابوں کے زندان میں

بوڑھی ہو کر پڑی ہے

کہانی سننےوالے بچے بڑے ہو کر

دور کی وادیوں کی کھوج میں

نکل گیے ہیں

خواب بننے والے دل

ان پہ لادی گئی خواہشوں

کے بوجھ تلے

دب کے کچل گیے ہیں

 

پری مر نہیں سکتی

کہ زندگی کی قید سے آزادی

اس کو امر نا کر پایے گی

ہاں!

 انسانی پاگل پن کا موسم سرما

 جب زنداں کو ڈھیروں برف سے

 ڈھک جایے گا

تو پری کا ناتواں وجود

بے حسی کے سرد کرسٹل میں

حنوط ہو کر

پریوں کی جنس امر کر جایے گا

تمام پریوں کے تمام اسراروں کا فسوں

تمام پہاڑوں کے تمام مہم جووں کے

دلوں میں رہ جایے گا۔۔۔

 

Painting By John Collier Titled ” Priestest of the Oracle at Delphie”