مجھے سنّاٹا پسند نہیں ہے 

WhatsApp Image 2018-09-13 at 6.39.56 PM


ساکت ہوا، ٹھہرا پانی، بوجھل فضا
 
ناپید آنسو، گھٹی چیخیں، جامد خلا
خداوندوں سے گریزاں دعا کی چپ
ہجر کے سفید کفن میں لپٹی امید کی لاش
ذات کے طلسم میں محبوس سیاہ ماتمی صدا
مجھے بے آواز ٹوٹنا پسند نہیں ہے 
مجھے سنّاٹا پسند نہیں ہے

محبّت ایسے سراب کی خاطر
نغمہ بیخودی کو تج دینا
کوچہ دل روشن رکھنے کو
ظلمت شہر کو فراموش کر دینا
اپنے پندار کو نادیدہ اشکوں سے ڈھانپ کر
مجھے تکبّر ذات کا آہنگ پسند نہیں ہے
مجھے سنّاٹا پسند نہیں ہے

اپنے غموں کی شناسایی مہمل کی تڑپ میں
اپنی وفاؤں کو خود سے جدا کرنا
حسرت تعمیر کا غم بھلانے کو
جدّت تدبیر کے بہانے کرنا
وصل ایسے صیّاد کی خاطر
مجھے دشت میں آبلہ پا دوڑنا پسند نہیں ہے
مجھے سنّاٹا پسند نہیں ہے

سکیچ بعنوان “ان دیکھے خواب”

2 thoughts on “مجھے سنّاٹا پسند نہیں ہے 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s